وفاقی متوسط و ثانوی تعلیمی بورڈ کی ویب سائٹ میں خوش آمدید
 

۱۹۷۵ وفاقی ثانوی تعلیم باب (ایکٹ)۱۹۷۵

(دستور ساز سے منظور شدہ)

( برائے قائم کرنے وفاقی ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی ادارہ )

اِسکو حسبِ ذیل مرتب کیا گیا ہے!

1-مختصر عنوان واجراء
  1. ۱- اِس باب کو وفاقی ثانوی تعلیمی ایکٹ ۱۹۷۵کہا جائیگا۔
  2. ۲- یہ وفاقی حکومت کی دی گئی تاریخ و وقت حسب مُشتہر جریدہ اعلامیہ سے نافذالعمل ہو گا۔
۲-وضاحات
اس باب میں بجز مختلف ممنوع عنوان و تصریح نہ ہو توَ!
  1. (الف) بورڈ کے معنی ہیں وفاقی ادارہ ثانوی تعلیم
  2. (ب) چیئرمین معنی ہیں چیئرمین ادارہ۔
  3. (ج) کالج معنی ہیں ایک ادارہ اندر اختیار حدود وفاقی ثانوی تعلیمی ادارہ سے مستند شدہ بشمول ایک کالج جس میں ثانوی تعلیم جماعتیں بمعہ یونیورسٹی سے منسلکہ ڈگری جماعتیں ہوں۔
  4. (د)کمیٹی معنی ایک مجلس (کمیٹی) جسے اس باب (ایکٹ)کے تحت تشکیل دی گئی ہو۔
  5. (ر) سربراہ ادارہ معنیٰ پرنسپل کالج یا ہیڈ ماسٹر یا ہیڈمسٹرس سکول۔
  6. (س) ہیڈ ماسٹر یا ہیڈمسٹرس بشمول ہے سکول پرنسپل ۔
  7. (ش) ادارہ معنی ہے کالج یا سکول۔
  8. (ص) انٹر میڈیٹ کالج معنی ایک ادارہ مستند برائے تدریس انٹر میڈیٹ تعلیم اور بشمول ایک ادارہ جس میں دونوں انٹرمیڈیٹ و ثانوی تعلیم کی تدریس ہوتی ہو۔
  9. (ط) انٹر میڈیٹ تعلیم معنی تعلیمی تدریس برائے گیارھویں و بارھویں جماعتیں ۔
  10. (ظ) مرتب کردہ معنی مرتب شدہ تحت قانون و ضابطہ ۔
  11. (ع) پرنسپل معنی سربراہ کالج۔
  12. (غ) توثیق شدہ معنی تسلیم شدہ از وفاقی ثانوی تعلیم ادارہ ۔
  13. (ف) سکول معنی ایک ادارہ اندر اختیار حدود و توثیق شدہ وفاقی تعلیمی ادارہ جس میں ثانوی تعلیم کی تدریس ہوتی ہو۔
  14. (ق) ضابطہ جات (ریگولیشن ) معنیٰ ضوابط مرتبہ تحت اِس ایکٹ (باب) کے ہوئے ہوں ۔
  15. (ک) ثانوی تعلیم معنی ایسی تعلیم جو متعلقہ جماعت نہم و جماعت دہم ہو اور ایسی دیگر جماعتیں جسے وفاقی حکومت نے ثانوی تعلیم قرار دیا ہو۔
  16. (گ) سیکرٹری معنی معتمد وفاقی تعلیمی ادارہ ۔
۳-تشکیل وفاقی تعلیمی ادارہ
  • ۱- مرکزی حکومت اس ایکٹ کے اجراء کے بعد جلدازجلد ایک ادارہ بنائے گی جوکہ وفاقی ادارہ تعلیم برائے ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیم ہو گا۔
  • ۲-وفاقی تعلیمی ادارہ ایک مستند انجمن ہو گی جوکہ حامل دائمی وراثت اور مشترکہ مُہر معہ اختیار حصول ، زیر قبضہ و فروخت جائیداد منقولہ و غیر منقولہ رکھتی ہو گی اور اسی نام سے نالش یا دفاعِ نالش کر سکے گی۔
  • ۴-دائیرہ اختیار وفاقی تعلیمی ادارہ
    وفاقی تعلیمی ادارہ اس ایکٹ کے تحت دئیے گئے اختیارات تعلیمی ادارہ جات مشمولہ وفاقی دارالحکومت ، وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقہ جات و مِثل ریاست ھائے وعلاقہ جات جو کسی صوبہ کا حِصہ نہ ہیں لیکن پاکستان میں رضامندی یا دیگرے شامل ہیں، ایسے ادارےے جو پاکستانی سفارتکار یا باشندگان پاکستان نے غیر ممالک میں قائِم کئے اور ایسے تعلیمی ادارے جو کنٹونمنٹ بورڈ کی حدوداختیار تحت کنٹونمنٹس ایکٹ ۱۹۲۴ (۱۱ برائے ۱۹۲۴) ہوں جووفاقی تعلیمی ادارہ سے الحاق چاہتے ہوں۔
    ۵-اجزائے ترکیبی وفاقی تعلیمی ادارہ
    1. وفاقی تعلیمی ادارہ حسب ذیل ممبران پر مشتمل ہو گا۔
    2. (الف) چیئرمین –وفاقی حکومت تعینات کرے گی ۔
    3. (ب) دو عدد وائس چانسلرز یونیورسٹی گرانٹس کمشن نامزد کرے گی۔
    4. (ج) ایک وزارت تعلیم سے جو وفاقی حکومت کے ڈپٹی سیکرٹری کے عہدہ سے کم نہ ہو نامزد شدہ ہو گا۔
    5. (د) ایک نامزد شدہ محکمہ ڈائریکوریٹ ملٹری لینڈر و کنٹونمنٹ بورڈ جو کنٹونمنٹ بورڈ کی نمائیندگی کرے گا۔
    6. (ر) ایک پرنسپل جو کہ مروجہ طریقہ سے پرنسپلز سے منتخب شدہ ہو گا۔
    7. (ز) ایک ہیڈماسٹر جوکہ مروجہ ضابطہ سے ہیڈماسٹران بوائے سکولز سے منتخب شدہ ہو گا۔
    8. (ژ) ایک ہیڈ مسٹرس سکول طالبات جوکہ ہیڈ مسٹران مروجہ قانون کے مطابق منتخب کریں گئیں۔
    9. (س) ڈائیریکٹر وفاقی حکومت تعلیمی ادارہ جات اسلام آباد۔
    10. (ش) ڈائیریکٹر ادارہ اسلامی تحقیقات اسلام آباد۔
    11. (ص) تین ممبران بشمول خاتون ممبر منتخب شدہ ممبران قومی اسمبلی پاکستان ۔
    12. (ع) دو ممبران ایوان بالا منتخب شدہ ازاں ممبران ایوان بالا۔
    13. (ف) ایک ایک ممبر فی کس ازاں صوبائی حکومت ، حکومت آزاد ریاست جموں کشمیر، وفاقی انتظام کے تحت قبائلی علاقہ جات ، علاقہ جات گلگت، بلتستان ، نگرحویلی اور ہنزہ ۔
    ۶-شرائط ممبر وفاقی تعلیمی ادارہ
    1. (۱) بجز رائے وفاقی حکومت کے اگر ضروری ہو مفاد عامہ کیلئے تو ممبر علاوہ نامزد شدہ کو جس نے تین سال تک ممبر رہا ہو۔ممبر رہ سکتا ہے۔
    2. (۲) کوئی نامزد شدہ ممبر اپنی وجہ تعیناتی سے سبکدوشی پر اپنی ممبر شپ برقرار نہ رکھ سکتا ہے۔
    3. (۳) کسی ممبر کی عارضی اسامی بقیہ مدت کیلئے علاوہ نامزد شدہ ممبر بذریعہ انتخاب یا نامزدگی جیسا بھی کہ صورتحال ہو پُر کی جائیگی جو کہ بقیہ مدت تک اس آسامی پر تعینات رہے گا ۔
    4. (۴) کوئی بھی ممبر اپنی دستی تحریر سے چیئرمین کے نام اپنا استعفیٰ دے سکتا ہے۔ جوکہ تا منظوری چیئرمین قابل عمل نہ ہو گا ۔
    5. (۵)ایک ممبر مقررہ مدت کے اختتام پر دوبارہ انتخاب یا نامزدگی کے اہل ہو گا۔
    ۷- وفاقی تعلیمی بورڈ کی مجالس
    1. ۱-بورڈ کی مجالس مقررہ وقت و طریقہ کار کے مطابق ہوں گی ۔بجزاسکے کہ جب تک ضابطہ کار مرتب نہیں ہوتا چیئرمین مجالس طلب کرے گا ۔
    2. ۲-چیئرمین کی عدم موجوگی میں ممبران مجلس کی صدارت کیلئے ایک ممبر منتخب کریں گے۔
    3. ۳- کوئی امیر مجلس بورڈ میں خالی اسامی یا تقرری بورڈ میں نقص کی بنیاد پر غیر موثر نہ ہو گا۔
    ۸- اختیارات و فرائض بورڈ
    1. ۱-اس ایکٹ کے دیگر ضوابط کے علاوہ وفاقی تعلیمی بورڈ کو ثانوی و سکول سرٹیفکیٹ تعلیم کو ترتیب، تردیج، ترقی اور کنٹرول کرنے کے اختیارات حاصل ہونگے۔
    2. ۲-خصوصاً اور بغیر عمومی اختیارات کے بشمول بورڈ کو اختیار حاصل ہے کہ
      1. (الف) ثانوی و اعلیٰ ثانوی امتحانات منعقد کروائے۔
      2. (ب) مختلف امتحانات کیلئے مقررہ کورس ہائے کی ہدایات جاری کرے ۔ علاوہ ازیں بورڈ مختلف امتحانات کیلئے مختلف کورس کی ہدایات بھی جاری کر سکتا ہے۔
      3. (ج) اپنے امتحانات کیلئے امیدواروں کا انتخاب کر سکتا ہے اور امتحانات کیلئے شرائط و ضوابط مقرر کر سکتا ہے ۔
      4. (د) پاکستان یا بیرون پاکستان تعلیمی اداروں کی توثیق کر سکتا ہے۔
      5. (ر) وفاقی حکومت کی اجازت سے غیر ملکی ادروں ، پیشہ ورانہ اداروں یا تنظیموں کے تحت ہونے والے ثانوی ، سکول سرٹیفکیٹ امتحانات کی نگرانی و ترتیب و ترویح کر سکتا ہے۔
      6. (ص) کسی ادارہ کا الحاق بوجہ عدم انتظام و انصرام کہ جسکی وجہ سے بعد جانچ عدم موثر کارکردگی ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس سے قبل وفاقی حکومت کی اجازت لازم ہو گی۔
      7. (ض) حسب مقرر شدہ فیس طلب و وصول کر سکتا ہے۔
      8. (ط) کسی بھی فرد یا افراد کو الحاق شدہ یا طلب الحاق کی جانچ پڑتال کیلئے مقرر کر سکتا ہے ۔
      9. (ظ) الحاق شدہ تعلیمی اداروں کے طلباء کی جسمانی و اخلاقی حالات کی ترقی کیلئے طریقہ کار مرتب اور ان کی رہائش،صحت اور تنظیم کیلئے پابند کر سکتا ہے۔
      10. (ع) ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیم کیلئے لیکچرز، اجلاس و تعلیمی سیمینارمعہ ضروری اقدامات کا انعقاد مہیا کرے گا۔
      11. (غ)تحت مقررہ شرائط وضوابط مقررہ بورڈ وظائف- میڈل اور انعامات لے اور دے سکتا ہے۔
      12. (ف) نصابی کتب و دیگر کتب برائے مطالعہ مقرر و اشاعت کر سکتا ہے۔
      13. (ق) طلباء، اساتذہ، ممتحن اور ممتحنات کی کارکردگی ناقص پر جرمانہ عائد و طریقہ عائدگی مرتب کر سکتا ہے۔
      14. (ک) بورڈ کے زیر الحاق تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی تعلیمی اصلیت مرتب کر سکتا ہے۔
      15. (گ) کسی بھی امر تعلیم جو وفاقی یا صوبائی ادارہ سے متعلقہ ہو کیلئے طلب پر رائے وفاقی حکومت کو دے گا۔
      16. (ل) پاکستان کے کسی بھی قومیائے بینک میں فالتو فنڈ جمع کروانے کا پابند ہو گا۔
      17. (م) اس ایکٹ اور اس کے ضوابط کے تحت حاصل شدہ اختیارات کےذریعے معاہدہ جات کر اور عمل درآمد کر سکتا ہے ۔
      18. (ن) تمام انتظامی معاملات بشمول بورڈ کے ماتحت اُسامیوں کے خاتمہ و اجرائی کیلئے ترتیب و فیصلہ جات کرسکتا ہے۔
      19. (و) اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے حسب ضرورت افسران اور اہلکاروں کا تقرر کر سکتا ہے اور ان کے فرائض و شرائط ملازمت تعین کر سکتا ہے۔
      20. (ہ) اس ایکٹ کے تحت ضروری عمارات ، فرنیچر،آلات ،کتب و دیگر ضابطہ کار بنا سکتا ہے۔
      21. (ء)اپنا سالانہ تخمینہ کی منظوری دے سکتا ہے۔
      22. (ی) اس ایکٹ کے مقاصد کیلئے ضروری اخراجات مرتب و منظور کر سکتا ہے۔
      23. (ے)اس ایکٹ کے مقاصد کیلئے ضروری تمام امور طے کر سکتا ہے۔
    ۹-وفاقی حکومت کے اختیارات
    1. ۱-وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ کسی فرد کو ہدایت کرے کہ وہ افسران بورڈ ، کارکردگی اور فنڈز و تمام امتحانات متعلقہ اور ایسے ہی طریقوں کی تفتیش کسی بھی معاملہ متعلقہ بورڈ کرائے۔
    2. ۲-وفاقی حکومت کسی بھی تفتیش کے نتائج وتجویز پر بورڈ کو متعلقہ معاملات سے متعلق ہدایات جاری کر سکتی ہے۔کہ وہ مقررہ وقت میں اُس امر سے متعلق کاروائی کرے ۔
    3. ۳-بورڈ وفاقی حکومت کو ہدایات پر عملدرآمد سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔
    4. ۴-اگر بورڈ مقرر وقت میں کاروائی نہیں کرتا جس سے کہ وفاقی حکومت مطمئن ہو تو وفاقی حکومت چیئرمین کو ہدایات کا پابند کر سکتی ہے۔
    5. ۵-وفاقی حکومت بورڈ کو وقتاً فوقتاً بورڈ کو اسکے اپنے فرائض کی ادائیگی کی حسب محررہ ہدایت جاری کر سکتی ہے۔
    6. ۶-وفاقی حکومت بورڈ سے اپنے لیے طلب کر سکتی ہے کہ وہ اسے:-
      1. بورڈ کے تحت کسی بھی معاملہ سے متعلق جواب طلبی،بیان ، تخمینہ یا دیگر عددی یا دیگر اطلاع مہیا کرے۔
      2. کسی بھی ایسے معاملہ پر رپورٹ دے۔
      3. کسی بھی دستاویزات کی فراہمی نقل تحت بورڈ اور چیئرمین ایسی طلب کی فراہمی کا پابند ہو گا۔
    7. ۷-اگر بورڈ ناکام ہو جائے یا نظر اندازی ہدایات کی تعمیل و تکمیل کرے جو کہ اسکو ذیلی شق نمبر ۵ کے تحت دی گئیں ہوں یا وفاقی حکومت کی رائے میں بورڈ متواتر اس ایکٹ کے تحت فرائض کی ادائیگی کا نا دھندہ ہے تو وفاقی حکومت بورڈ پر ترجیح دیتے ہوئے بورڈ کے اوپر چیئرمین کو تعینات کر سکتی ہے۔تاوقتیکہ نیا بورڈ اس ایکٹ کے مطابق مقرر نہ ہو جائے تو ایسی کسی ترجیحی تقرری کو کسی بھی عدالت میں متنازعہ نہیں بنایا جا سکتا ۔
    ۱۰-افسرانِ بورڈ
    مندرجہ ذیل افسران بورڈ ہوں گے:
    1. (i) چیئرمین
    2. (ii)سیکرٹری
    3. (iii) کوئی بھی آفیسر جسکو کہ بورڈ نے تعینات کیا ہو۔
    ۱۱-چیئرمین کی تعیناتی ، اختیارات و فرائض
    1. ۱-چیئر مین وفاقی حکومت اپنی شرائط و ضوابط مقررہ پر تعینات کرے گی۔
    2. ۲-چیئرمین کے تقرری وفاقی حکومت ۳ سال کیلئے کرے گی لیکن دوبارہ تقرری معیاری تین سال کیلئے دوبارہ تعیناتی کے اہل ہوں گے۔
    3. ۳-اگر کسی وقت چیئرمین کی اسامی خالی ہو جائے یا وہ ایک سال سے زائد عرصہ بوجوہ عارضی عدم ادائیگی فرائض یا علاوہ ازیں برائے رخصت، بیماری یا دیگر کوئی بھی وجہ ہو تو وفاقی حکومت متبادل انتظام کرے گی اور تب تک سیکرٹری چیئرمین کی جگہ کام کرے گا ۔
    4. ۴-یہ چیئرمین کا فرض ہو گا کہ اس ایکٹ کے ضوابط پر عملدرآمدگی کی یقین دھانی کرائے اور اسکی بجاآوری کیلئے تمام ضروری اختیارات استعمال کرے گا۔
    5. ۵- اگر کوئی ہنگامی صورتحال چیئر مین کی رائے میں پیدا ہو گئی ہو اور فوری اقدام ضروری ہو تو چیئرمین اپنی دانست کے مطابق ایسا کوئی بھی اقدام اُٹھا سکتا ہے اور ایسے اُٹھائے گئے اقدام کی رپورٹ وفاقی حکومت کو دے اور بورڈ کے آمدہ اجلاس میں برائے منظوری پیش کرے۔
    6. ۶-چیئرمین دیگر تمام مقررہ اختیارات بروئے کار لا سکتا ہے۔
    ۱۲-سیکرٹری کی تعیناتی ، اختیارات و فرائض
    1. ۱-وفاقی حکومت سیکرٹری کو مقررہ شرائط و ضوابط پر حسب منشاء مدت کیلئے تعینات کرے گی۔
    2. ۲-سیکرٹری تحت کنٹرول چیئرمین ،انتظامی امور کیلئے بورڈ کا مُنتظم افسر ہو گا اور بورڈ اور چیئرمین کے احکامات کے اجرا کا ذمہ دار ہو گا اور تمام معاہدہ جات بورڈ کی طرف سے تکمیل کرے گا۔
    3. ۳-سیکرٹری تمام رقوم کی انکے مقاصد و اغراض پر خرچ کیے جانے کیلئے ذمہ دار ہو گا اور سالانہ اخراجات اور بجٹ و تخمینہ کی تیاری مکمل کر کے بورڈ کی منظوری کیلئے پیش کرے گا ۔
    4. ۴-سیکرٹری دیگر تمام اختیارات مقررہ استعمال کرے گا ۔
    ۱۳-تقرری و ترتیب مجلس
    1. ۱-بورڈ کورسز کیلئے مجلس ، مجلس مالیات و دیگر مجالس اپنے معاملات کو چلانے کیلئے مقرر کرے گا ۔
    2. ۲-کوئی بھی مجلس ارکان بورڈ اور دیگر افراد اگر بورڈ انفرادی معاملہ میں ضروری سمجھے تو اسپر مشتمل ہو گی۔علاوہ ازیں ایک فرد وفاقی حکومت سے مجلس مالیات کیلئے نامزد ہو گا ۔
    3. ۳-ایک مجلس تحت منظوری چیئرمین اضافی افراد کو ضروری سمجھے تو شامل کر سکتی ہے ۔
    4. ۴-معیاد اضافی افراد مقررہ ذیلی شق نمبر ۳ اُسکی تعیناتی سے ایک سال کیلئے ہو گی مزید برآں-اضافی افراد کی تعیناتی مقررہ وقت و تعیناتی تک محدود ہو گی ۔
    ۱۴-فنڈ
    بورڈ کا ایک مال ہو گا جسمیں بورڈ کی آمدن ، آمدن فیس ہائے ، عطیات ، امداد اور نذرانے شامل ہونگے۔
    ۱۵-مالیات کی تنقیح سالانہ
    1. ۱-بورڈ کے مالی معاملات اُسی ترتیب و ترکیب سے مرتب کیئے جائینگے جسکا کہ مقررہ ہے۔
    2. ۲-بورڈ کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال ہر سال اکاونٹیٹ جنرل (مالیات ) کرے گا ۔
    3. ۳-بورڈ بوقت تنقیح تمام حسابات ، رجسٹر، دستاویزات اور دیگر کاغذات دفتری تنقیح کنندہ کی طلب پر فراہم کرئگا اور اُسکی تفتیش میں معاونت کرے گا
      ٭بشرطیکہ اگر وفاقی حکومت تصدیق کرے کہ ایک مخصوص دستاویز خفیہ ہے تو تنقیح کنندہ اس دستاویز کے متبادل چیئرمین سے تصدیق شدہ بیان تسلیم کرے۔
      ٭بشرطیکہ مزید کہ اگر دستاویز راز ہے تو تنقیح کنندہ اُسکے مندرجات مخفی رکھنے کا پابند ہو گا ۔
    4. ۴-بورڈ جس قدر جلد ممکن ہوا، مالی اختتام پر ، بورڈ کے سالانہ حسابات ، وفاقی حکومت کے پاس جمع کرائیگا جوکہ تنقیح شدہ ہو گی اور بشمول رپورٹ تنقیح کنندہ ہو گی۔
    ۱۶-جنررس پونجی
    بورڈ اپنے ملازمین کے مفاد کیلئے جنرس پونجی قائم کریگا، گر یہ قائم ہو گیا تو اسکے لیے پراویڈنٹ فنڈ ایکٹ ۱۹۲۵(برائے ۱۹۲۶) لا گو ہو گا ۔
    ۱۷-بورڈ کے اختیارات برائے بنانے قانون
    1. ۱-بورڈ وفاقی حکومت کی منظوری کے تابع اس ایکٹ کے مقاصد کیلئے قانون بنا سکتا ہے۔
    2. ۲-برائے خصوصی اور پہلے کے اختیارات عمومی پرعدم اطلاق کے، قانون درج ذیل معاملات کیلئے مہیا کرے گا جو کہ اسمائے ہیں ۔
      1. (الف) طریقہ کار برائے کارکردگی ، تعداد ممبران برائے تکمیل لازمی تعدادارکان برائے مجالس بورڈ و کیمٹی ہائے۔
      2. (ب) طریقہ کار امتحانات بشمول تعیناتی مُمتحمین معہ انکی ڈیوٹی ، اختیارات و معاوضہ جات ۔
      3. (ج) بورڈ امتحانات کیلئے امیدواروں کی اہلیت برائے ڈپلومہ جات ، سرٹیفکیٹس و اسناد۔
      4. (د) اداروں کے الحاق و بعصیغہ دستبرداری کیلئے شرائط و ضوابط۔
      5. (ر) بورڈ کے ثانوی و سکول سرٹیفکیٹ و دیگر امتحانات کیلئے مقررہ کورس ہائے کا اطلاق و پابندی کیلئے ہدایات برائے الحاق شدہ ادارہ جات ۔
      6. (س) اعزازات و انعامات کا تقرر۔
      7. (ص) انتخابات و نامزدگی ممبران بورڈ و برائے کمیٹی ہائے ۔
      8. (ط) کمیٹی ہائے کے اجزائے ترکیبی۔
      9. (ع) بورڈ کے ملازمین کی تقرری ااور انکی شرائط ملازمت۔
      10. (ف) جزرس پونجی کا قیام برائے بورڈ ملازمین ۔
      11. (ق) ایسے دیگر معاملات جو اس ایکٹ کے اطلاق کو موثر کرنے کیلئے ضروری ہوں ۔
    حقوق نقل و اشاعت © ۲۰۱۷ وفاقی تعلیمی بورڈ ، جملہ حقوق محفوظ ہیں
    سوالات، شکایات، تجاویز یا ٹوٹے ہوئے لنکس کے بارے میں معلومات کے لئے، پر لکھ کریں
    ویب ماسٹر